May 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/phillybizmedia.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
حالیہ دہشتگردی واقعات کی پلاننگ افغانستان میں ہورہی،عامرتابناقتل میں بھارت ملوث ہونے کے شواہد موجود،وزیرداخلہ

لاہور( نوائے وقت رپورٹ)  وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عامر تانبا کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارتی دہشتگرد سربجیت سنگھ پر حملے کے ملزم عامر تانبا پر ہونے والے حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی دو چار واقعات میں بھارت براہ راست پاکستان میں قتل میں ملوث رہا، اس معاملے پر پولیس کی تحقیقات جاری ہیں، جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی اس لیے ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں ہے، عامر تانبا کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ہوائی اڈوں پر امیگریشن کاؤنٹرز کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،  ہوائی اڈوں پر ای گیٹ کے اوپر بھی کام شروع کردیا ہے تاکہ بغیر امیگریشن افسر کے پاسپورٹ اسکین کر کے پاس کرلیا جائے۔ اجلاس کا مقصد تھا وہ اوور بلنگ تھا، اس وقت بجلی کی قیمت بہت زیادہ ہے ،میری وزیر اعظم سے بھی بات ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے لاہور نے کافی اچھا کام کیا، انہوں نے لیسکو میں 83 کروڑ یونٹ اووربل پکڑے ہیں، ظلم اس بات کا ہے حکومتی آفس، انڈسٹری کو بل ڈال دیتے تھے اور جو 300 یونٹ والا آدمی تھا اس کو بھی اوور بلنگ کردیا جاتا تھا، ہم پاکستان میں اس کا خاتمہ کریں گے۔ ایف آئی اے کے سائبر سائٹ پر بھی کام شروع ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 8 پنجابیوں کے قتل کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، ان کو زیارت کے ویزے پر لے جایا جارہا تھا، ہیومن ٹریفکنگ پر بھی کام جاری ہے۔کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے بارے میں انسپکٹر جنرل سے بھی رابطے میں ہوں ،ر روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو پکڑا جارہا ہے۔سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی ہونی چاہیے، کسی پہ کیچڑ نہیں اچھالنی چاہیے، یہ میرا حق ہے کہ کوئی مجھ پر جھوٹا الزام لگائے تو میں اس کے خلاف کہیں جا سکوں۔محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان مسلسل افغانستان سے بات چیت کر رہا ہے، جتنے بھی حالیہ دہشتگردی کے واقعات ہورہے ہیں تقریبا ساروں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ یا ساری پلاننگ افغانستان سے ہو رہی ہے، یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *