May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/phillybizmedia.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ، پاکستان کے ڈالر بانڈ کی قدر 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی: بلوم برگ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ آخری جائزہ مذاکرات کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کردیا۔ پاکستان اور آئی ایم ایف میں سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے قرض کی آخری قسط کی مد میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگئی۔ پاکستان کو 2 اقساط کی مد میں آئی ایم ایف سے ایک ارب 90 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو آخری قسط جاری کی جائے گی۔ آخری قسط کے بعد پاکستان کو موصول شدہ رقم بڑھ کر3 ارب ڈالرز ہو جائے گی۔ آخری قسط ملنے کے ساتھ ہی3 ارب ڈالرکا قلیل مدتی قرض پروگرام مکمل ہوجائے گا۔ اعلامیے میں آئی ایم ایف نے باقی مالی سال معاشی بحالی کے لیے اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے، معاشی اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنانسنگ مل رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ رواں سال مہنگائی مقررہ حکومتی ہدف سے زیادہ رہے گی، حکومت کو معاشی بحالی کے لیے اصلاحات جاری رکھنی چاہیے۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ حکومتِ پاکستان نے بجلی اور گیس ٹیرف کی بروقت ایڈجسٹمنٹ اور رواں مالی سال گردشی قرضے میں اضافہ روکنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ نومنتخب حکومت نے ٹیکس نیٹ (ٹیکس دہندگان کی تعداد) بڑھانے اور مہنگائی کم کرنے کے کے لیے اقدامات اٹھانے کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو ایکسچینج ریٹ مستحکم رکھنے اور فاریکس مارکیٹ میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ اعلامیہ میں آئی ایم ایف نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی منتخب حکومت معاشی اہداف پر کاربند کرے گی، توقع ہے کہ پرائمری بیلنس 401 ارب روپے تک رہے گا اور پرائمری بیلنس معیشت کا 0.4 فیصد رہے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں نئے قرض کی شرائط بھی سامنے آگئی ہیں۔ آئی ایم ایف کے جاری بیان میں کہا گیا ہے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور نگران  حکومت نے پروگرام پر موثر  عمل درآمد کیا، پاکستان کی نئی حکومت نے بھی جاری پالیسی  پر عمل، اصلاحات کی کوششوں کے بارے میں اپنا  عزم  ظاہر کیا تاکہ پاکستان کو استحکام سے پائیدار  بحالی کے راستے پر لے جایا جا سکے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سٹاف لیول ایگریمنٹ کے بعد نئی  قسط کی اجرا کا معاملہ آئی ایم ایف کے بورڈ کے سامنے اپریل کے آخر میں پیش ہونے کا امکان ہے۔ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے ساتھ پہلے ریویو کے بعد سے اب  تک پاکستان کی معاشی اور مالی  پوزیشن میں کافی بہتری  آئی۔ اس سال گروتھ مناسب رہے گی، جبکہ افراط زر ہدف سے آگے بڑھ جائے گا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان افراط زر کو کم کرنے کے لیے متحرک مالیاتی  پالیسی پر عمل درآمد کو جاری رکھے گا۔ زر مبادلہ کی مارکیٹ شرح میں لچک رکھی  جائے گی۔ زر مبادلہ کی مارکیٹ کے آپریشنز میں شفافیت  برقرار رکھی جائے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان نے نئے وسط مدتی قرض پروگرام کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے، جس پر آئندہ ماہ مذاکرات ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا کہ نئے قرض پروگرام کے تحت ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، کم ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے گا، ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو بہتر بنایا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق توانائی شعبہ کی پیداواری لاگت وصول کی جائے گی، بجلی کا ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کا نظام بہتر کیا جائے گا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی انتظامیہ کو بہتر کیا جائے گا۔ خسارے کا شکار سرکاری اداروں میں گورننس کا نظام بہتر کیا جائے گا۔ جائزہ مذاکرات کے دوران وزیر خزانہ  محمد اورنگزیب نے تقریباً 36 سے 39 ماہ کے ایک اور قرض کے پروگرام کے لیے بھی پاکستان کا منصوبہ آئی ایم ایف  کے ساتھ شیئر کیا ہے، جس کے لیے مقررہ وقت پر باضابطہ درخواست کی جائے گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی موجودہ شرح (60 روپے فی لیٹر) بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ علاوہ ازیں دوسری جانب  بلوم برگ کے مطابق پاکستان گزشتہ برس ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے میں کامیاب رہا جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے کے بعد پاکستان کے ڈالر بانڈ کی قدر مارچ 2022 ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا زیادہ تر انحصار آئی ایم ایف پر ہے۔ پاکستان نے معاشی بہتری کیلئے نیا قرض پروگرام لینے میں دلچسپی ظاہر کردی۔ سرمایہ کاروں کی توجہ اب نئے قرض پروگرام کیلئے مذاکرات پر ہوگی۔ بلوم برگ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی بیرونی ضروریات 24 ارب ڈالر ہیں۔ ایکسٹرنل فنانسنگ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائرسے تین گنا زیادہ ہیں۔ پاکستان آئی ایم ایف سے کم ازکم 6 ارب ڈالر کا قرض پروگرام لے سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *