April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/phillybizmedia.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

مالدیپ میں تعینات ہندوستانی فوج کا پہلا دستہ جمعہ کو مالدیپ سے ہندوستان واپس آگیا ہے۔ وزارت خارجہ نے یہ خبر دی کہ اب فوج کی جگہ مالدیپ کے عملہ کے تبادلے کا عمل انجام پا چکا ہے۔ مالدیپ کے صدر محمد معزو نے اپنے انتخابی وعدہ پر عمل شروع کر دیا۔ فوجی نقطہ نظر سے اہم جزیرہ مالدیپ میں ہندوستان کی جگہ اب چین کا عمل دخل۔

Narendra Modi and Mohammad Muizzu during an event in Dubai. Photo: INN

نریندر مودی اور محمد معزو، دبئی میں ایک تقریب کے دوران۔ تصویر: آئی این این

مالدیپ کی حکومت نے ۱۰؍مارچ کو ہندوستانی فوجیوں کے پہلے گروپ کیلئے جزیرہ نما ملک چھوڑنے کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔ ۲۶؍فروری کو شہری تکنیکی عملے کی پہلی ہندوستانی ٹیم مالدیپ پہنچی تاکہ وہاں تعینات ہندوستانی فوجی اہلکاروں کی جگہ ایوی ایشن آلات چلا سکے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو کہا کہ ’’اہلکاروں کی پہلی ٹیم جو اے ایل ایچ ہیلی کاپٹر کو چلا رہی تھی، کی تبدیلی مکمل ہو گئی ہے۔ عملہ کی پہلی کھیپ جس کو تبدیل کیا جانا تھا انجام پا چکا ہے۔ ‘‘ 
مالدیپ کی حکومت نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ہندوستان نے ۱۰؍مئی تک جزیرے والے ملک سے اپنے فوجی اہلکاروں کو واپس بلانے اور ہوا بازی کے انتظامی عملے کو عام شہریوں سے تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہندوستان واحد غیر ملکی طاقت ہے جس کی مالدیپ میں فوجی موجودگی ہے۔ ہندوستانی دفاعی عملے کا ایک گروپ جزیرہ نما میں ریڈار اسٹیشنوں اور نگرانی کے طیاروں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ ہندوستانی جنگی جہاز مالدیپ کے خصوصی اقتصادی زون میں گشت میں بھی مدد کرتے ہیں۔ بحر ہند کے علاقے میں چین کے ساتھ جغرافیائی سیاسی مسابقت کے درمیان یہ تعاون نئی دہلی کیلئے تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ 
مالدیپ کے صدر محمدمعزو کیلئے، جو چین کے تئیں مثبت موقف رکھنے والے خیال کئے جاتے ہیں، ان کے ملک سے ہندوستانی فوج کو ہٹانا ایک اہم انتخابی وعدہ تھا۔ اکتوبر میں ابتدائی مذاکرات کے بعد انہوں نے ہندوستان سے کہا کہ وہ ملک سے اپنی فوجیں نکال لے۔ دسمبر میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان اپنے فوجیوں کو واپس بلانے پر راضی ہو گیا ہے۔ 
 یہاں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ محمد معزو نے جنوری کے شروع میں ہندوستان کے ساتھ سفارتی تنازع کے درمیان چین کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کیا تھا۔ عام طور پر ہندوستا ن پہلا ملک ہوتا ہے جس کا اقتدار سنبھالنے کے بعد مالدیپ کے نئے صدر دورہ کرتے ہیں۔ خبروں کے مطابق معزو نے پہلے نئی دہلی کے دورے کی درخواست کی تھی لیکن اسے مسترد کردیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *