May 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/phillybizmedia.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

اقوام متحدہ (یو این) کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ہندوستان میں جاری مذہبی منافرت، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے ساتھ ہورہے امتیازی سلوک پر اظہارِ تشویش کیا۔ ماہرین نے حکومت ہند سے کہا کہ وہ ان طبقوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ برتے بلکہ انہیں ساتھ لے کر چلے۔

Photo: INN

تصویر: آئی این این

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے جمعرات کو ہندوستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ مذہبی منافرت کی وکالت کو روکے، بشمول امتیازی سلوک، دشمنی یا تشدد پر اکسانا، اور تبدیلی مذہب اور توہین رسالتؐ مخالف قوانین کو منسوخ کرکے اقلیتوں کی مذہبی آزادی کا تحفظ فراہم کرے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چین: اسلام کو چینی ثقافت میں ڈھالنے کے نام پر مسلمانوں کیخلاف مظالم کا نیا سلسلہ

ماہرین نے نئی دہلی سے اپیل کی کہ وہ رضاکاروں کے تشدد کو روکے اور ان کے جرائم کی جوابدہی کو یقینی بنائے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں، آزاد ماہرین اور ورکنگ گروپس کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام پسماندہ گروہوں بشمول پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والی خواتین اور مردوں کی شمولیت کے ساتھ ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک کے خلاف محاذ بنائے۔ ماہرین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک اور خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خلاف اقدامات کرے اور ان جرائم سے متاثر ہونے والوں کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرے۔ 
ماہرین نے حکومت ہند سے یہ مطالبہ بھی کیاکہ ’’گھروں کی مسماری اور اقلیتوں کی جبراً نقل مکانی کو روکے اور اس کا ارتکاب کرنے والے خاطیوں کو سزا دے۔ ‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت کو صوابدیدی نقل مکانی کو روکنے کیلئے بھی اقدامات کرنے چاہئے جو میگا پروجیکٹس کے سبب پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ آسام میں بنگلہ نسل کے لوگوں کیلئے بے وطنی کے خطرے کو دور کرے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نائیجیریا: ۲۸۷؍ بچوں کا اغواء، انٹیلی جنس میں خامی اہم وجہ، سیکوریٹی فورسیز کا جنگلات کا گھیراؤ

ماہرین نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت سے کہا کہ وہ سول سوسائٹی کے کارکنوں اور گروہوں کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسی تفتیشی ایجنسیوں کے ’’غلط استعمال‘‘ کو روکے اور ایسی مرکزی ایجنسیوں کو ’’مناسب نگرانی اور کنٹرول‘‘ کے تحت لائے۔ 
 بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’حکومت، سول سوسائٹی کے کام کرنے کیلئے ایک سازگار ماحول پیدا کرےاور اسے فروغ دے اور عوامی سطح پر معاشرے کی بہتری میں سول سوسائٹی کے اہم کردار کو تسلیم کرے۔ ‘‘ ماہرین نے حکومت ہند سے اس سال ہونے والے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہونے کو یقینی بنانے کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ سرکاری وسائل کے متعصبانہ مقاصد کیلئے استعمال کو روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ 
ماہرین نے ہندوستان سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے’ جبری اور غیر اختیاری گمشدگی‘ کے ساتھ تعاون کرے، ان لوگوں کے ٹھکانے کا انکشاف کرے جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ پینل کے تجویز کردہ اقدامات پر عمل درآمد کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *