May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/phillybizmedia.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

سویڈن کی تھنک ٹینک ایس آئی پی آر آئی نے پیر کو ایک نئی رپورٹ میں کہا کہ ہندوستان دنیا میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور اس کی درآمدات میں ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۸ء اور ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیان ۴ء۷؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( ایس آئی پی آر آئی) نے کہا کہ روس، ہندوستان کے ہتھیاروں کے اہم فراہم کنندہ ہے۔ ۲۳۔ ۲۰۱۹ء میں یورپی ریاستوں کی تقریباً ۵۵؍ فیصد ہتھیاروں کی درآمد امریکہ کے ذریعے ہوئی جو ۱۸۔ ۲۰۱۴ء میں ۳۵؍ فیصد تھی۔ 
تھنک ٹینک نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے زیادہ ہتھیار درآمد کرنے والا ملک رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ روس ہندوستان کا اسلحہ فراہم کرنے والا اہم ملک رہا (اس کے اسلحے کی درآمدات کا ۳۶؍ فیصد حصہ)، یہ ۶۴۔ ۱۹۶۰ء کے بعد پہلا پانچ سالہ دور تھا جب روس (۱۹۹۱ء سے پہلے سوویت یونین) کا ہندوستان کے ہتھیاروں کی درآمد نصف سے بھی کم حصہ تھا۔ 
رپورٹ کے مطابق ۲۳۔ ۲۰۱۹ء میں پاکستان نے اپنے ہتھیاروں کی درآمدات میں نمایاں اضافہ کیا (۴۳؍ فیصد)۔ پاکستان ہتھیاروں کا پانچواں سب سے بڑا درآمد کنندہ تھا اور چین اس کے اہم سپلائر کے طور پر غالب رہا، جو اس کے اسلحے کی درآمدات کا۸۲؍ فیصد فراہم کرتا ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق چین کے مشرقی ایشیائی ہمسایوں میں سے دو ممالک کی جانب سے ہتھیاروں کی درآمد میں اضافہ ہوا، جاپان کی طرف سے ۱۵۵؍ فیصد اور جنوبی کوریا کی طرف سے ۵ء۶؍ فیصد اضافہ ہوا۔ بنیادی طور پر درآمد شدہ اسلحے کی جگہ لینے کے نتیجے میں چین کے اپنے اسلحے کی درآمدات میں ۴۴؍ فیصد کمی واقع ہوئی ہے جن میں سے زیادہ تر مقامی طور پر تیار کردہ نظام کے ساتھ روس سے آئے تھے۔ 
ایس آئی پی آر آئی آرمز ٹرانسفر پروگرام کے سینئر محقق سائمن ویزمین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جاپان اور دیگر امریکی اتحادیوں اور ایشیا اور اوشیانا میں شراکت داروں کی طرف سے اسلحے کی مسلسل اعلیٰ سطح کی درآمدات کی ایک کلیدی وجہ چین کے پر تشویش عزائم ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ ’’ امریکہ جو چینی خطرے کے بارے میں تشویشناک عزائم کی ترویج کا شراکت دار ہے، خطے کیلئے ایک بڑھتا ہوا سپلائر ہے۔ ‘‘ اس نے کہا کہ ۲۳۔ ۲۰۱۹ء میں ۳۰؍ فیصد بین الاقوامی ہتھیاروں کی منتقلی مشرق وسطیٰ میں ہوئی۔ مشرق وسطیٰ کے ۳؍ ممالک اس دوران سر فہرست ۱۰؍ درآمد کنندگان میں شامل تھے: سعودی عرب، قطر اور مصر۔ 
ایس آئی پی آر آئی نے کہا کہ سعودی عرب اس مدت میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کرنے والا ملک تھا جواس عرصے میں ہتھیاروں کی عالمی درآمدات کا ۴ء۸؍ فیصد تھا۔ تاہم، سعودی عرب کی اسلحے کی درآمد میں ۲۸؍فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے لیکن یہ ۱۸۔ ۲۰۱۴ء کی اعلیٰ سطح پر تھا۔ 
 اس کے علاوہ رپورٹ کےمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قطر نے ۱۸۔ ۲۰۱۴ء اور ۲۳۔ ۲۰۱۹ء کے درمیان اپنے ہتھیاروں کی درآمد میں تقریباً چار گنا (۳۹۶؍ فیصد) اضافہ کیا، جس سے وہ آخری الذکر مدت کا تیسرا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کنندہ بن گیا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *